کینیا کے وزیر امریکی حمایت یافتہ ایبولا مرکز پر توہین عدالت کے مرتکب قرار

کینیا کے ایک سینئر وزیر کو امریکی مالی امداد سے چلنے والے ایک متنازعہ ایبولا مرکز کی تعمیر کے معاملے پر عدالتی حکم عدولی کرنے پر توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کینیا کی ہائی کورٹ نے سنایا، جس کے بعد وزیر کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کینیا کے وزیر ایڈن ڈوالے نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو نظر انداز کیا جس میں انہیں ایک متنازعہ امریکی مالی امداد سے چلنے والے مرکز کی تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ مرکز ایبولا سے متعلق تھا اور اس کی تعمیر پر مقامی سطح پر کچھ تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ عدالتی حکم کے باوجود کام جاری رکھنے پر عدالت نے سخت موقف اختیار کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیر ایڈن ڈوالے نے عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے، جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب وزیر کو عدالت میں پیش ہو کر اپنے عمل کی وضاحت کرنی ہوگی اور ممکنہ طور پر انہیں جرمانے یا دیگر قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے کینیا کے سیاسی اور عدالتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • Related Posts

    بھارت: الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے ‘کاکروچ’ رہنما رہا

    بھارت کے دارالحکومت دہلی میں غیر مجاز احتجاجی مقام میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو سرکردہ رہنماؤں، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو جیل سے رہا…

    میٹا پر صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے بارے میں ‘جھوٹ’ بولنے پر 25 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ

    میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسی مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی ہے، کو صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے بارے میں گمراہ کن بیانات…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔