عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان ایک سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں دونوں ممالک ٹیکنالوجی کی برتری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم، حالیہ تجزیات سے پتہ چلتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں کے حوالے سے واشنگٹن بیجنگ کے نقش قدم پر چلنا شروع ہو گیا ہے، جو اس عالمی دوڑ کی نوعیت پر نئے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
یہ صورتحال اس عام تاثر کے برعکس ہے جہاں ان دونوں ممالک کو مصنوعی ذہانت کی ترقی میں ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا ہے۔ واشنگٹن کا یہ نیا انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ بھی چین کی طرح مصنوعی ذہانت کو قومی سلامتی، اقتصادی ترقی اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھ رہا ہے، اور اسی کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔ دونوں ممالک اب ایک جیسے “پلے بک” پر عمل پیرا نظر آتے ہیں، جس میں ریاستی سطح پر سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی کی حمایت، اور ٹیکنالوجی کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔
اس مشترکہ حکمت عملی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی دوڑ اب صرف ٹیکنالوجی کی ترقی تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ کون سا ملک اس ٹیکنالوجی کو زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقے سے اپنے قومی مفادات کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کے حکمرانی کے ماڈلز اور بین الاقوامی تعاون پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جہاں روایتی حریف بھی بعض اوقات مشترکہ راستے اپنا سکتے ہیں۔






