ایک شخص جو روزانہ اوسطاً 14 گھنٹے اپنے فون پر گزارتا ہے، اب اس لت سے چھٹکارا پانے کے لیے تھراپی لے رہا ہے۔ اس شخص نے اپنی اس عادت کو ‘قابو سے باہر’ قرار دیا ہے اور وہ اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں ڈیجیٹل آلات کا بے تحاشا استعمال افراد کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
نشے کے علاج کے مراکز کے مطابق، ایسے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ‘قابو سے باہر’ فون کے استعمال کی وجہ سے مدد کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرین ٹائم میں غیر معمولی اضافہ ذہنی صحت، سماجی تعلقات اور روزمرہ کے معمولات کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل آلات کا بے تحاشا استعمال اب ایک سنگین سماجی اور نفسیاتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ فون کی لت دیگر نشوں کی طرح ہی خطرناک ہو سکتی ہے، جو افراد کی ذہنی صحت، نیند کے پیٹرن، سماجی تعلقات اور پیشہ ورانہ زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس شخص کی کہانی ایسے ہزاروں افراد کے لیے ایک مثال ہے جو اس ڈیجیٹل جال میں پھنس چکے ہیں اور اب اس سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھا جائے اور اس کے حل کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کی جائیں تاکہ صحت مند ڈیجیٹل عادات کو فروغ دیا جا سکے۔






