پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی میر رضا علی کے والد میر حسین نے اپنے بیٹے کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ میر رضا علی کی پراسرار موت کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر ان کے والد نے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ میر حسین کا مطالبہ ہے کہ ان کے بیٹے کی موت کی اصل وجوہات کو شفاف طریقے سے سامنے لایا جائے۔
میر حسین کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ واضح نہیں کی گئی تھی، اور انہیں شبہ ہے کہ ان کے بیٹے کی موت قدرتی نہیں تھی۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میر رضا علی کی موت کی اصل وجوہات سامنے لائی جائیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ذرائع کے مطابق، میر حسین نے اس سلسلے میں اعلیٰ حکام کو ایک باقاعدہ درخواست بھی جمع کرائی ہے، جس میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت طلب کی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد، اب عدالتی حکم یا متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد میر رضا علی کی میت کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ میر حسین کو امید ہے کہ دوبارہ پوسٹ مارٹم سے موت کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں گی اور انہیں انصاف مل سکے گا۔ یہ پیش رفت اس کیس میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے اور تحقیقات کو مزید گہرائی تک لے جانے میں مددگار ثابت ہو گی۔




