اسلام آباد: کشمیر سے متعلق ایک احتجاج کے مقدمے میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پراسیکیوشن نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان سے ایک گاڑی اور اسلحہ کی برآمدگی درکار ہے، جس کے لیے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے بعد، عدالت نے سابق سینیٹر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ احتجاج کے دوران ہونے والے واقعات کی گہرائی سے چھان بین اور دیگر ملزمان کی نشاندہی کے لیے مشتاق احمد کا ریمانڈ ضروری ہے۔ پراسیکیوشن نے مزید بتایا کہ یہ احتجاجی مظاہرہ پرتشدد ہو گیا تھا اور اس میں ملوث افراد کے پاس سے مبینہ طور پر اسلحہ اور ایک گاڑی استعمال کی گئی تھی جو اب تک برآمد نہیں ہو سکی ہے۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں اور وہ کشمیر کے معاملے پر ہمیشہ آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان پر یہ مقدمہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے خلاف اسلام آباد میں کیے گئے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد درج کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اور ریمانڈ کو سیاسی حلقوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔




