اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اثرانداز ہونے کی ان کی صلاحیتوں کی کچھ حدود تھیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات کے باوجود، بعض اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر اسرائیل کی پوزیشن اور امریکہ کے فیصلوں کے درمیان فرق نمایاں رہا ہے۔ نتن یاہو نے واضح کیا کہ ان کے ذاتی تعلقات کتنے ہی مضبوط کیوں نہ رہے ہوں، امریکی پالیسی سازی میں ان کا اثر و رسوخ ہمیشہ مکمل نہیں تھا۔
اسی بیان میں، نتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کو خطے میں فوجی کارروائی کرنے کا حق برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو یقینی بنانے اور ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے کسی بھی وقت کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ موقف خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے لاحق خطرات کے پیش نظر اسرائیل کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔ نتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اپنی دفاعی ضروریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
نتن یاہو کا یہ اعتراف اور خطے میں فوجی کارروائی کے حق پر اصرار، اسرائیل کی خارجہ پالیسی میں خود مختاری اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بیانات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل، اپنے سب سے قریبی اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے باوجود، اپنی سلامتی کے معاملات میں اپنے فیصلے خود کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر اسرائیل کے کردار اور اس کی علاقائی حکمت عملی پر جاری بحث کو مزید تقویت دے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔




