اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں وزیرِ اعظم نے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی ترقی اور انہیں درپیش چیلنجز کے حل کے لیے سمیڈا کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے خاص طور پر ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی فراہمی کو تیز کرنے، برآمدات میں اضافے کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی معاونت کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی ترقی پاکستان کی اقتصادی خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ایز پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، انہیں اکثر مالیاتی اداروں تک رسائی، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کو فروغ دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ان چیلنجز کو تسلیم کرتے ہوئے سمیڈا کو ہدایت کی کہ وہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایس ایم ایز کے لیے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق مصنوعات تیار کرنے اور انہیں عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے سمیڈا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صنعتی معاونت کے پروگراموں کو مزید فعال بنایا جائے۔ انہوں نے ٹیکنیکل ٹریننگ، مارکیٹنگ سپورٹ اور کاروباری مشاورت فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ ایس ایم ایز اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکیں اور مسابقتی ماحول میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان اقدامات پر عملدرآمد کی پیشرفت پر باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں تاکہ اہداف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔ ان اقدامات سے نہ صرف ایس ایم ایز کو فروغ ملے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔




