وینزویلا میں جون کے مہینے میں آنے والے دو شدید زلزلوں کے بعد، ایک دس منزلہ رہائشی عمارت کے ملبے تلے 32 گھنٹے تک پھنسی رہنے والی ایک چھوٹی لڑکی فابیانا کی حیرت انگیز کہانی سامنے آئی ہے۔ اس بچی نے اپنی بقا کے لیے جو طریقہ اپنایا، وہ سن کر ہر کوئی حیران رہ گیا ہے۔
فابیانا، جو اس خوفناک حادثے کے بعد ملبے کے ڈھیر میں دب گئی تھی، نے بتایا کہ اس نے اپنی بھوک مٹانے اور خود کو زندہ رکھنے کے لیے کیچپ اور پنیر کا استعمال کیا۔ اس کی یہ بات سن کر ریسکیو اہلکار اور اس کے اہل خانہ دونوں ہی جذباتی ہو گئے۔ فابیانا نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا، ‘میں نے کیچپ اور پنیر کھایا۔’ یہ الفاظ اس کی ہمت اور زندہ رہنے کی غیر معمولی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔
جون میں وینزویلا کو ہلا دینے والے ان دو زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور متعدد افراد زخمی یا ہلاک ہوئے۔ فابیانا کی کہانی ایسے وقت میں امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے جب ملک قدرتی آفات کے بعد بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی انتھک کوششوں اور فابیانا کی غیر معمولی ہمت نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا، اور اب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ محفوظ ہے۔






