ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ کے حصول کے لیے ایک نیا اور غیر متوقع اصول متعارف کرایا ہے، جس کے تحت درخواست دہندگان کو اپنے آبائی ملک میں موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے امریکہ میں مقیم تارکین وطن، ان کے وکلاء اور حقوق کے علمبرداروں میں شدید بے یقینی اور تشویش پیدا کر دی ہے۔ وہ اس نئے قانون کی تشریح اور اس کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس نئے اصول کے تحت، جو افراد امریکہ میں رہتے ہوئے گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتے تھے، انہیں اب اپنے آبائی ملک واپس جانا پڑے گا تاکہ وہ وہاں سے درخواست دے سکیں۔ یہ شرط ان ہزاروں افراد کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے جو پہلے ہی امریکہ میں اپنے خاندانوں کے ساتھ مقیم ہیں یا جن کے لیے اپنے آبائی ملک واپس جانا کسی نہ کسی وجہ سے مشکل یا خطرناک ہو سکتا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس قانون کی زبان مبہم ہے اور اس کے اطلاق کے بارے میں کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کو ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کا ایک اور سخت قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی نہ صرف گرین کارڈ کے عمل کو مزید پیچیدہ بنائے گی بلکہ خاندانوں کی علیحدگی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ وکلاء اور قانونی ماہرین اس نئے اصول کے قانونی مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اسے عدالت میں چیلنج کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ فی الحال، امریکہ میں مقیم لاکھوں تارکین وطن اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔




