سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچوں کو دی جانے والی ویکسینز کو محدود کرنے اور خسرہ، کن پیڑے اور روبیلا (ایم ایم آر) کے ٹیکوں کو الگ الگ دینے کے ایک حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں تبدیلی لانا ہے، جس پر طبی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نے اس سفارش کو، جس میں ایم ایم آر ویکسین کو تقسیم کرنے کی بات کی گئی ہے، ‘خطرناک’ قرار دیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بچوں کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے، جو کہ عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
طبی برادری میں ایم ایم آر ویکسین کو ایک ساتھ دینے کا طریقہ کار دہائیوں سے رائج ہے اور اسے خسرہ، کن پیڑے اور روبیلا جیسی مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے انتہائی مؤثر اور محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس حکم نامے پر دستخط ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ویکسین کے حوالے سے غلط معلومات اور شکوک و شبہات کا سلسلہ جاری ہے، اور طبی ماہرین اس طرح کے فیصلوں کے طویل مدتی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔





