پاکستان کے شمالی علاقوں میں پیش آنے والے ایک ہولناک برفانی تودے کے حادثے نے تین نیپالی کوہ پیماؤں کی جان لے لی، جن میں کیلی پیمبا شیرپا، گیالو شیرپا اور نیما شیرپا شامل تھے۔ اس المناک واقعے کے بعد ان کے لواحقین اور دوست احباب گہرے صدمے میں ہیں اور اپنے پیاروں کی ناگہانی موت پر غم و اندوہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ حادثہ کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے ایک بار پھر فطرت کے بے رحم چیلنجز کی یاد دہانی ہے۔
نیپال میں ان بہادر کوہ پیماؤں کے آبائی علاقوں میں سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ لواحقین اپنے گھروں میں جمع ہو کر اپنے پیاروں کی یاد میں دعائیں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہے ہیں۔ کوہ پیمائی ایک انتہائی خطرناک کھیل ہے جس میں ہر قدم پر جان کا خطرہ لاحق رہتا ہے، اور پاکستان کے بلند و بالا پہاڑ اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ خطرات بھی رکھتے ہیں، جہاں موسم کی شدت اور برفانی تودے کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
مقامی حکام اور امدادی ٹیموں نے برفانی تودے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی تھیں، لیکن بدقسمتی سے ان تینوں کوہ پیماؤں کو بچایا نہ جا سکا۔ اس واقعے نے کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ انسانی کوششیں بعض اوقات فطرت کی طاقت کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں۔ لواحقین اب اپنے پیاروں کی آخری رسومات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ ان کی یادیں اور کوہ پیمائی کے میدان میں ان کی بہادری ہمیشہ زندہ رہے گی۔




