پاکستان میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے، جس میں ہفتے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ڈیلرز کا مطالبہ ہے کہ ان کے منافع کے مارجن کو موجودہ مقررہ رقم سے بڑھا کر ایکس ڈپو قیمت کا 6 فیصد کیا جائے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق، مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات بشمول تنخواہیں، بجلی کے بل اور کرایہ، موجودہ مارجن کو ناقابل برداشت بنا چکے ہیں۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ موجودہ مارجن، جو پیٹرول پر 4.13 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 3.68 روپے فی لیٹر ہے، ان کے اخراجات پورے کرنے اور منافع کمانے کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت جیسے مسائل کو بھی حل کرے۔
قبل ازیں ستمبر 2023 میں حکومت نے ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کیا تھا، لیکن ایسوسی ایشن نے اسے ناکافی قرار دیا تھا۔ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مارجن میں مزید اضافہ صارفین پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔ اگر یہ ہڑتال ہوتی ہے تو اس سے ملک بھر میں ایندھن کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی اور معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔





