اسلام آباد – پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-31 منظوری کی منتظر ہے، اور اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کل اس مجوزہ پالیسی پر ایک اور اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ پالیسی ملک کے آٹو سیکٹر کے مستقبل کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرے گی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے باضابطہ اعلان سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ اس پالیسی کے تحت ایک اہم تجویز گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی (Environmental Levy) عائد کرنے کی ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا اور ملک میں پائیدار نقل و حمل کے طریقوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ لیوی گاڑیوں کے اخراجات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم اس کے ماحولیاتی فوائد پر زور دیا جا رہا ہے۔
پالیسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس پر عمل درآمد شروع ہو سکے گا۔ یہ نئی آٹو پالیسی نہ صرف آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ صارفین کے لیے گاڑیوں کی دستیابی اور قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حکومت اس پالیسی کے ذریعے معیشت اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔




