کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی تعلیمات کے چیئرمین، پروفیسر عارف ساقی کو 8 ستمبر 2026 کو ایک ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پروفیسر ساقی کو تشدد کے بعد کی حالت میں دیکھا گیا، جس کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ شہر میں اساتذہ کے تحفظ پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
پروفیسر عارف ساقی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک ڈبل کیبن گاڑی نے ان کی آن لائن ٹیکسی کو ٹکر ماری۔ ان کے مطابق، اس تصادم کے بعد ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں نے موقع پر پہنچ کر دو گولیاں فائر کیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پروفیسر ساقی کے مطابق، فائرنگ کے بعد انہیں ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں نے پکڑ لیا اور بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات دیکھے جا سکتے ہیں جو اس واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔




