نیویارک: ایک امریکی وفاقی عدالت نے چینی ارب پتی گو وینگوی کو وسیع پیمانے پر مالیاتی فراڈ کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے کیس میں آیا ہے جس نے دنیا بھر میں ہزاروں افراد کو متاثر کیا اور انہیں کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ گو وینگوی، جو چین سے فرار ہو کر امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو دھوکہ دہی پر مبنی سرمایہ کاری کی اسکیموں کے ذریعے لوٹا۔
وفاقی جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گو وینگوی کے فراڈ نے دنیا بھر میں 1,000 سے زائد افراد کو متاثر کیا اور انہیں مجموعی طور پر کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ ان اسکیموں میں جعلی کرپٹو کرنسی، میڈیا وینچرز اور دیگر سرمایہ کاری کے مواقع شامل تھے جن کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن حقیقت میں وہ صرف دھوکہ دہی پر مبنی تھے۔ متاثرین میں عام شہری شامل تھے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی بچتیں اس امید پر لگائی تھیں کہ انہیں بڑا منافع ملے گا، لیکن انہیں صرف مایوسی اور مالی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
گو وینگوی، جو اپنی متنازعہ شخصیت اور چینی حکومت کے خلاف بیانات کے لیے مشہور تھے، نے اپنی سوشل میڈیا موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو اپنی اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سزا مالیاتی جرائم میں ملوث افراد کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ انصاف کا نظام ایسے دھوکہ بازوں کو معاف نہیں کرے گا جو معصوم لوگوں کی محنت کی کمائی کو لوٹتے ہیں۔ اس فیصلے سے متاثرین کو کچھ حد تک انصاف ملنے کی امید ہے، اگرچہ ان کے مالی نقصانات کی مکمل تلافی مشکل ہوگی۔







