بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چین برازیل کی “مداخلت” کی مخالفت میں مکمل حمایت کرے گا۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور عالمی سطح پر مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے اپنے برازیلی ہم منصب کو یقین دلایا کہ بیجنگ برازیل کی خودمختاری اور اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے خلاف اس کے موقف کی تائید کرتا ہے۔
یہ حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر مختلف ممالک کے اندرونی معاملات میں بیرونی قوتوں کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ چین اور برازیل دونوں ہی ترقی پذیر دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں اور وہ ایک کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کے حامی ہیں۔ صدر شی جن پنگ کا یہ بیان برازیل کے لیے ایک اہم سفارتی پشت پناہی ہے، جو اسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنے موقف کو مزید مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو چین اور برازیل کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ دونوں ممالک برکس (BRICS) گروپ کے اہم رکن ہیں اور عالمی اقتصادیات اور سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ اس حمایت کا مقصد نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر ان ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا بھی ہے جو اپنی خودمختاری اور ترقی کے راستے میں کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔




