چین نے بحرالکاہل میں ایک آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے نے علاقائی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
یہ میزائل تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آسٹریلیا بحرالکاہل کے جزائری ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔ آسٹریلیا کا مقصد خطے میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنا اور علاقائی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا یہ اقدام بحرالکاہل میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
چین کے اس تجربے پر کئی ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافہ کریں۔





