کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر نے ملک کی معیشت کے لیے انتہائی اہم تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے جہاں اس کے پاس کوئی فعال کاٹن ایکسچینج موجود نہیں ہے۔
پاکستان، جو دنیا کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، کے لیے ایک فعال کاٹن ایکسچینج کا نہ ہونا تشویشناک ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف کپاس کے کاشتکاروں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی پوزیشن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ تاریخی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ نے دہائیوں تک ملک کی کپاس کی تجارت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس کی عدم فعالیت سے کاروباری برادری کو ایک اہم پلیٹ فارم سے محروم ہونا پڑا ہے۔
کے سی سی آئی کے صدر نے زور دیا کہ اس تاریخی عمارت کی فوری بحالی نہ صرف ہمارے ورثے کو محفوظ رکھے گی بلکہ کپاس کی تجارت کو منظم کرنے اور اس شعبے میں اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد دے گی۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے پر فوری توجہ دیں تاکہ ملک کی معیشت کے اس اہم ستون کو دوبارہ فعال کیا جا سکے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔






