افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیوں نے لاکھوں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ لڑکیاں ان پابندیوں کی زد میں آ کر تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں، افغان باپ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے چھن جانے پر گہرے دکھ اور مایوسی کا شکار ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ “یہ حکومت تعلیم یافتہ افراد نہیں چاہتی۔”
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان یہ باپ اپنی بیٹیوں کو علم کی روشنی سے محروم نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ انہیں تعلیم دلانے کے لیے خفیہ سکولوں اور کمپیوٹر کورسز کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک خطرناک اور مشکل راستہ ہے، وہ اپنی بیٹیوں کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا پختہ یقین ہے کہ تعلیم ہی ان کی بیٹیوں کو ایک بہتر اور روشن مستقبل دے سکتی ہے، اور اس کے بغیر ان کی زندگیوں میں اندھیرا چھا جائے گا۔
افغان معاشرے میں تعلیم کو ہمیشہ ایک بنیادی اور اہم مقام حاصل رہا ہے، اور لڑکیوں کی تعلیم پر عائد یہ پابندیاں ایک بڑا سماجی دھچکا سمجھی جا رہی ہیں۔ باپوں کا یہ غم صرف ذاتی نہیں بلکہ پورے معاشرے کا غم ہے، جو اپنی آئندہ نسلوں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلتا دیکھ رہا ہے۔ تاہم، ان باپوں کا عزم ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ہر ممکن طریقے سے تعلیم دلاتے رہیں گے، چاہے اس کے لیے انہیں کتنی ہی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔





