وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں وسائل کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم اور چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا پیسہ چار صوبوں کے بجائے صرف 20 بااثر افراد میں تقسیم ہوتا ہے، جو ملک میں جاری مالیاتی عدم مساوات اور بدعنوانی کی جانب ایک سنگین اشارہ ہے۔
مصطفیٰ کمال کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اقتصادی چیلنجز سے دوچار ہے اور صوبوں کو اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، یہ صورتحال نہ صرف صوبوں کے حقوق کی پامالی ہے بلکہ عام عوام کی محرومی کا بھی سبب بن رہی ہے، جنہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وفاقی وزیر کے اس بیان نے حکومتی حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ملک کے وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہیں، شفافیت اور احتساب کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات ملک میں مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ تمام صوبوں اور عوام کو یکساں ترقی کے مواقع میسر آ سکیں۔



