کراچی میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران ضبط کیا گیا سرکاری سامان پراسرار طور پر غائب ہو گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے اور اعلیٰ حکام نے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ آرام باغ سب ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کراچی کو اس سنگین معاملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ حالیہ تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران پیش آیا جہاں مختلف علاقوں سے ریڑھیاں، ٹھیلے، دکانوں کا سامان اور دیگر اشیاء ضبط کی گئی تھیں۔ یہ تمام سامان سرکاری تحویل میں محفوظ کیا گیا تھا، تاہم اب اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ اس واقعے نے نہ صرف انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ تجاوزات کے خلاف مہم کی شفافیت پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس غبن پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کراچی نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ایک جامع رپورٹ پیش کریں اور اس غبن میں ملوث تمام ذمہ داران کا تعین کریں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی بڑے پیمانے پر بدعنوانی یا لاپرواہی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس واقعے کے بعد آئندہ تجاوزات آپریشنز میں ضبط شدہ سامان کی حفاظت اور نگرانی کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔



