پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے ہفتے کے روز وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دفاع کیا، جنہیں حال ہی میں ایک نجی دورے کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال اور پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق ان کے ریمارکس پر شدید تنقید کا سامنا تھا۔ مریم اورنگزیب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، “آج کل کا مسئلہ نہ طیارہ ہے اور نہ ہی مریم نواز کا بیان؛ اصل مسئلہ مریم نواز کی کارکردگی اور ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔”
انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ بات پہلے ہی صاف کر دی گئی تھی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز اپنے لندن کے دورے کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گی۔ وزیر اعلیٰ گزشتہ ہفتے اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں اور بدھ کو لاہور واپس لوٹیں۔ پنجاب حکومت کا اصرار ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس دورے کے تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے ہیں۔
یہ پیش رفت وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھی کہ پنجاب کو “پڑوسی ممالک کی بجائے پڑوسی صوبوں سے زیادہ سیکیورٹی خطرات” کا سامنا ہے۔ ان ریمارکس کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اور جمعہ کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے اپنے ایجنڈے کو معطل کرتے ہوئے ان ریمارکس پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کرنے والی ایک اکثریتی قرارداد منظور کی۔ تاہم، اسمبلی کے اجلاس کے دوران، خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بارے میں توہین آمیز اور جنسی تعصب پر مبنی ریمارکس کا سہارا لیا تھا۔ مریم اورنگزیب نے ہفتے کو کہا کہ جو لوگ وزیر اعلیٰ مریم کے بیان کو “صوبوں کے درمیان نفرت پھیلانے” کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ دراصل ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پریشان ہیں۔






