امریکی وزیر خارجہ نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کی حیثیت کے حوالے سے ایک واضح موقف اختیار کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل اور بحری تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی اجارہ داری عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔
اسی دوران، ایران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد عالمی پابندیوں کے حوالے سے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہ دونوں معاملات امریکہ اور ایران کے درمیان پیچیدہ تعلقات میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی سٹریٹجک اہمیت اور ایران کے جوہری عزائم پر عالمی برادری کی تشویش، دونوں ہی خطے میں امن و استحکام کے لیے چیلنجز پیش کرتے ہیں۔
ان سفارتی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزرلینڈ کا دورہ کریں گی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیوں کے مستقبل اور اس کے جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے حوالے سے ایک جامع اور قابل قبول حل تلاش کرنا ہے۔ عالمی طاقتیں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں، جبکہ ایران اپنے پرامن جوہری توانائی کے حق پر زور دیتا رہا ہے۔
یہ مذاکرات نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہیں بلکہ عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کا بھی حصہ ہیں۔ آبنائے ہرمز کی آزادی اور ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کا اتفاق رائے، دونوں ہی امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔




