امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے جس کے تحت ہیٹی اور شام سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے عارضی حفاظتی اسٹیٹس (Temporary Protected Status – TPS) کو ختم کیا جا سکے گا۔ یہ فیصلہ ان افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو کئی سالوں سے امریکہ میں عارضی پناہ گزین کے طور پر رہ رہے تھے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے انسانی بحرانوں سے دوچار ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کے عارضی حفاظتی اسٹیٹس کو منسوخ کرنے کے لیے مسلسل زور دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنا ہے، جن کے بارے میں انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان کے ممالک میں حالات اب اتنے خراب نہیں رہے کہ انہیں امریکہ میں مزید تحفظ فراہم کیا جائے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ہیٹی اور شام کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے شہریوں پر بھی اثر پڑے گا جنہیں عارضی حفاظتی اسٹیٹس حاصل تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کے لیے ایک غیر یقینی صورتحال قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں اب بھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ ان افراد کی محفوظ واپسی ممکن ہو سکے۔




