سندھ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے کی اطلاع دی ہے۔ بے رحم شکاریوں نے معصوم پیلیکین پرندوں کو پکڑ کر ان کی آنکھیں سوئی دھاگے سے سی دی ہیں تاکہ انہیں غیر قانونی طور پر اسمگل کیا جا سکے۔ یہ ظالمانہ فعل پرندوں کو بے بس کرنے اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق، شکاری یہ گھناؤنا طریقہ اس لیے اپناتے ہیں تاکہ پرندے اسمگلنگ کے دوران اڑ نہ سکیں اور انہیں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔ آنکھیں سی دینے سے پرندے مکمل طور پر اندھے ہو جاتے ہیں اور اپنی خوراک تلاش کرنے یا شکاریوں سے بچنے کے قابل نہیں رہتے۔ یہ عمل نہ صرف پرندوں کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے بلکہ اکثر ان کی موت کا سبب بھی بنتا ہے۔ جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان میں بھی اس کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔
سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کی اطلاع دیں تاکہ جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین ماحولیات نے اس عمل کو جنگلی حیات کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید موثر اقدامات کرے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے جہاں صارفین نے پرندوں پر ہونے والے اس ظلم کی مذمت کی ہے۔





