پاکستانی افواج نے کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر دقیق جوابی کارروائیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کرنے والے عناصر کو نشانہ بنانا تھا۔
ذرائع کے مطابق، یہ حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے تاکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جا سکے۔ ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جو طویل عرصے سے پاکستان کے اندرونی امن و امان کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ افواج نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گی۔
یہ جوابی کارروائیاں کراچی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے چند روز بعد کی گئی ہیں، جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔ پاکستانی حکام نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھیں گے، چاہے وہ کہیں بھی چھپے ہوں۔ ان کارروائیوں کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔





