لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں ایک نجی اسکول کی استانی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ استانی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، متاثرہ استانی کے والد نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ ان کی بیٹی کو کوٹ لکھپت کے علاقے میں نامعلوم ملزمان نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان نے استانی کو اغوا کیا اور پھر کسی نامعلوم مقام پر لے جا کر اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا۔ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ استانی کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس واقعے نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور شہریوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف فراہم کریں۔





