اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اسرائیل کے ای ون (E1) منصوبے کو فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو معدوم کرنے کے مترادف ہے۔ عاصم افتخار نے یہ بیان اقوام متحدہ کی ایک اہم بحث کے دوران دیا، جہاں انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ای ون منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس (مشرقی یروشلم) کو مغربی کنارے کی سب سے بڑی اسرائیلی بستی معالیہ ادومیم سے جوڑنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، جس سے فلسطینی علاقوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ منقطع ہو جائے گا اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ایک قابل عمل اور مربوط علاقہ قائم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے لیے مشرقی یروشلم تک رسائی کو بھی مزید محدود کر دے گا۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ عاصم افتخار نے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنے غیر قانونی توسیعی منصوبوں کو روکے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔







