روس نے یوکرین پر ایک بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کیف میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے شہر لرز اٹھا۔ ان حملوں نے یوکرین میں جاری کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
یہ حملے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی اس وارننگ کے چند گھنٹے بعد ہوئے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ روس کیف پر ایک اور ‘بڑے حملے’ کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر زیلنسکی نے اپنی تقریر میں شہریوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا اور انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
حالیہ حملوں نے یوکرین میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔



