مشرقی یورپ کی نمائندہ سارہ رینزفورڈ نے وضاحت کی ہے کہ ضم شدہ کریمیا پر یوکرینی حملے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے لیے ایک بڑا دھچکا کیوں ہیں۔ ان حملوں نے کیف کے لیے کریمیا کی اہمیت اور اس جزیرہ نما کے پوٹن کے لیے سٹریٹجک اور علامتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
سارہ رینزفورڈ کے مطابق، کیف کے لیے کریمیا صرف ایک مقبوضہ علاقہ نہیں بلکہ روس کی فوجی سپلائی لائنوں اور بحیرہ اسود میں اس کے بحری بیڑے کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یوکرین کا مقصد ان حملوں کے ذریعے روس کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ یوکرین اپنی سرزمین کے ہر حصے کو آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ حملے روس کے دفاعی نظام میں کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
ولادیمیر پوٹن کے لیے کریمیا کی اہمیت گہری ہے۔ 2014 میں روس کے ساتھ اس کے الحاق کو پوٹن نے اپنی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا اور اسے روسی تاریخ اور شناخت کا حصہ قرار دیا تھا۔ کریمیا روس کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کا گھر ہے اور اس کی سٹریٹجک پوزیشن روس کے علاقائی اثر و رسوخ کے لیے کلیدی ہے۔ لہٰذا، کریمیا پر یوکرینی حملے پوٹن کے لیے نہ صرف فوجی بلکہ سیاسی اور علامتی طور پر بھی ایک بڑا دھچکا ہیں۔ یہ حملے روسی عوام میں پوٹن کی مضبوط حکمرانی کی تصویر کو بھی متاثر کرتے ہیں اور روس کی دفاعی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔






