امیرِ جماعتِ اسلامی، حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک بھر میں جاری لیوی بھتہ کے غیر قانونی نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ بھتہ خوری شہریوں اور تاجروں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور اس سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے زور دیا کہ اس غیر قانونی عمل سے نہ صرف عوام پر مالی بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ یہ قانون کی حکمرانی کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے سربراہ نے مزید کہا کہ لیوی بھتہ کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہو رہا ہے اور چھوٹے بڑے کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی ہمیشہ سے ایسے غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے جو عوام کی زندگیوں کو اجیرن بناتے ہیں اور معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم معیشت اور پرامن معاشرے کے قیام کے لیے ایسے غیر قانونی ٹیکسوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری اقدامات کرے اور لیوی بھتہ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس غیر قانونی بھتہ خوری کا خاتمہ نہ کیا گیا تو جماعتِ اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ شہریوں کو اس ظلم سے نجات دلائیں اور کاروبار دوست ماحول فراہم کریں۔




