بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس کی ایک چوکی پر مسلح دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں نو اہلکار شہید ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ رات پیش آیا جب دہشت گردوں کے ایک گروہ نے چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حملے میں متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس میں پندرہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جس میں خودکار ہتھیار اور دستی بم شامل تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور شہید اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں تاکہ دہشت گردی کے ایسے واقعات کو روکا جا سکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




