بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں مانگی ڈیم کے قریب دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے چار پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ آج مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں اعلیٰ سول و فوجی حکام، پولیس افسران، شہداء کے لواحقین اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار معمول کی گشت پر مامور تھے اور دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ کر دی۔
تین شہید پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ضلع ہرنائی میں ادا کی گئی، جہاں انہیں آبائی قبرستانوں میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور شہداء کے جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ چوتھے شہید پولیس اہلکار کی نمازِ جنازہ ضلع زیارت میں ادا کی گئی، جہاں انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان، کمانڈر سدرن کمانڈ کے نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔
نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ حکام نے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے اس بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔




