امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو مطلع کیا ہے کہ ایران کے ساتھ لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ یہ اعلان کئی دنوں کی فضائی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے جس میں شپنگ فیسیں شامل ہیں۔ یہ فیسیں ان کی اپنی انتظامیہ نے پہلے غیر قانونی قرار دی تھیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایران پر مزید دباؤ ڈالنا اور اس کے اقتصادی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
ان احکامات کے تحت ایران کے گرد سمندری ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں پر اضافی ٹیکس عائد کیے جائیں گے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

