اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہو گیا ہے۔ امریکی حکام نے اس حملے کا الزام ایران نواز عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ شام کی سرحد کے قریب واقع ایک خفیہ امریکی فوجی تنصیب پر پیش آیا، جہاں امریکی فوجی داعش کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان دشمنی میں دوبارہ شدت آئی ہے۔ تہران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً غزہ جنگ کے بعد سے، ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے امریکی مفادات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اس کا جواب اپنی مرضی کے وقت اور طریقے سے دے گا۔ اس واقعے سے خطے میں ایک بڑے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ امریکہ نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کو ایک ‘ناقابل قبول’ عمل قرار دیا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید کشیدگی سے بچنے کی اپیل کی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو مزید خطرہ لاحق نہ ہو۔





