عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بلاک برکس (BRICS) کو ایران میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اپنی حدود کا سامنا ہے۔ یہ بلاک، جو دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے اور عالمی جی ڈی پی کے ایک نمایاں حصے کی نمائندگی کرتا ہے، اپنی اقتصادی طاقت کو عالمی سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ایران میں جاری جنگی صورتحال نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ برکس، اپنی مضبوط اقتصادی بنیادوں کے باوجود، عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک متفقہ اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین، اور جنوبی افریقہ، اور حال ہی میں شامل ہونے والے دیگر ممالک) کے درمیان اقتصادی تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے، لیکن عالمی سیاسی بحرانوں پر ان کے موقف اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ ایران جیسے حساس معاملے پر، جہاں عالمی طاقتیں تقسیم نظر آتی ہیں، برکس کا کوئی ٹھوس اور متفقہ موقف سامنے نہیں آ سکا ہے۔ یہ صورتحال بلاک کے اندرونی تضادات اور اس کی مشترکہ خارجہ پالیسی کے فقدان کو نمایاں کرتی ہے، جس سے اس کی عالمی سیاسی حیثیت اور اثر و رسوخ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تاہم، اس صورتحال میں ایک مثبت پہلو بھی پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ برکس کا عالمی سیاسی معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز اسے ایک ایسے بلاک میں تبدیل ہونے سے روکتا ہے جو مزید تنازعات کو ہوا دے۔ اس کی بجائے، یہ ممالک انفرادی طور پر سفارتی کوششوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے اپنے اپنے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال برکس کو اپنی بنیادی اقتصادی شناخت پر توجہ مرکوز رکھنے اور عالمی سیاسی تنازعات میں غیر جانبدارانہ ثالث کا کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ کسی ایک فریق کی حمایت میں کھڑا ہو کر اپنی غیر جانبداری کو متاثر کرے۔






