لندن: مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے ‘حقیقی طور پر خوفزدہ’ ہیں۔ یہ انکشاف مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے ایک سابق محقق نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں ان کے ساتھیوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ تشویش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ نے بھی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بے قابو پھیلاؤ سے ‘سنگین’ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن کا انسانیت کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ خطرات نہ صرف تکنیکی نوعیت کے ہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سابق محقق کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد خود اس ٹیکنالوجی کی ممکنہ منفی اثرات سے آگاہ ہیں اور اسی وجہ سے وہ انسانیت کے مستقبل کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی، حفاظتی اور سماجی پہلوؤں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے اور بین الاقوامی سطح پر ضابطہ اخلاق وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔






