نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے نے ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نیٹو کے اندر پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار پر امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات گہرے ہو چکے ہیں۔ روٹے، جو ایک تجربہ کار یورپی رہنما ہیں، نیٹو کے اتحاد کو برقرار رکھنے اور اہم عالمی امور پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکہ کو یکطرفہ طور پر الگ کر لیا تھا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس اقدام کو یورپی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جو معاہدے کو برقرار رکھنے کے حامی تھے۔ اس پالیسی اختلاف نے نیٹو کے اندر بھی تناؤ پیدا کیا ہے، جہاں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اہم عالمی امور پر ہم آہنگی کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ یورپی ممالک کا موقف ہے کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی ایران کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے کا بہترین راستہ ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر زور دیتی رہی ہے۔
مارک روٹے کی کوششوں کا مقصد نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان ایران کے حوالے سے ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے تاکہ اتحاد کی یکجہتی کو برقرار رکھا جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ نیٹو کو عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد رہنا ضروری ہے، اور ایران جیسے حساس معاملے پر اختلافات اتحاد کو کمزور کر سکتے ہیں۔ روٹے کی یہ سفارتی کوششیں عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔




