کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.305 ارب ڈالر کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی ملک کی جانب سے بھاری بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث ہوئی ہے، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے پر قرضوں کی سروسنگ کے مسلسل دباؤ کو نمایاں کرتی ہے، باوجود اس کے کہ رواں ماہ کے آخر میں آمدنی کی توقع ہے۔
اس کمی نے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی معاشی عدم استحکام اور درآمدات کی ادائیگیوں کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی اگرچہ ملک کی ساکھ کے لیے ضروری ہے، تاہم یہ زرمبادلہ کے ذخائر پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی کرنسی کی اشد ضرورت ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ رواں ماہ کے آخر میں کچھ آمدنیوں کی توقع ہے، تاہم ملک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان حکمت عملیوں میں برآمدات میں اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ترسیلات زر کو فروغ دینا شامل ہے تاکہ بیرونی کھاتے پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔





