ہفتے کی رات کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں میں مسلح افراد اور ایک خودکش بمبار شامل تھا جنہوں نے کیمپ کے گیٹ کو گاڑی سے ٹکر مار کر توڑنے کی کوشش کی اور پھر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ یہ حملہ شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
تاہم، اس سنگین حملے کے باوجود رینجرز نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رینجرز کے جوانوں نے اپنے کیمپ کے اندر سے بھرپور جوابی کارروائی کی اور بہادری سے مقابلہ کیا۔ اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں تمام حملہ آور دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک دہشت گرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ رینجرز کی یہ فوری اور مؤثر کارروائی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رینجرز کی اس کامیاب دفاعی کارروائی کے بعد یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جب رینجرز نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں ناکام بنایا، تو شہر کی دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، بالخصوص پولیس کا کردار کیا تھا؟ عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ ایسے حملوں کی روک تھام اور فوری ردعمل میں تمام سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ حکمت عملی کیا ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔





