اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی فوج کو حزب اللہ کے خلاف مزید طاقتور حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور اسرائیل کو حزب اللہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ حزب اللہ اب صرف روایتی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ سائبر ڈرونز کا استعمال بھی کر رہی ہے، جو اسرائیلی دفاع کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو کے مطابق، حزب اللہ کی جانب سے سائبر ڈرونز کا استعمال جنگی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی حزب اللہ کو اسرائیلی اہداف کو زیادہ مؤثر طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس سے اسرائیل کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس نئی صورتحال کے پیش نظر، اسرائیلی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کو مزید تیز اور طاقتور بنایا جائے۔ یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں یہ ایک اور اہم موڑ ہے۔ نیتن یاہو کا یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جنگ جاری ہے اور لبنان کی سرحد پر بھی آئے روز جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کو مزید طاقتور حملوں کا حکم دینے سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔




