چیک جمہوریہ میں پولیس نے ایک روسی پادری کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے قبضے سے ‘سفید مواد’ برآمد ہوا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب روس اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ مقامی حکام نے ابتدائی طور پر اس معاملے کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم پادری کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
ماسکو نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ‘اشتعال انگیزی’ قرار دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چیک پولیس کی یہ کارروائی غیر ضروری اور روس کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ ماسکو نے چیک حکام سے پادری کی فوری رہائی اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روس اور چیک جمہوریہ کے تعلقات حالیہ برسوں میں کئی وجوہات کی بنا پر تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات دوطرفہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ فی الحال، سفید مواد کی نوعیت اور اس کے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے، جبکہ چیک حکام نے ابھی تک ماسکو کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔




