خلیج فارس میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوابی حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال خطے سے توانائی کی فراہمی کو شدید متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
تازہ ترین صورتحال کا آغاز آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں سے ہوا، جس نے جوابی کارروائیوں کے ایک نئے سلسلے کو جنم دیا۔ یہ آبنائے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی اگر مزید بڑھتی ہے تو یہ خلیج فارس کے خطے سے توانائی کے بہاؤ کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی بلکہ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین اور صنعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔




