فرانسیسی قوم پرست رہنما میرین لی پین نے اپیل کورٹ کی جانب سے مجرمانہ فیصلے کی توثیق کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اپنی صدارتی مہم کا آغاز کر دیا۔ یہ اقدام عدالتی فیصلے کے خلاف ان کے باغیانہ رویے اور سیاسی عزم کا واضح اظہار ہے۔
عدالتی فیصلے کے باوجود فوری طور پر صدارتی مہم کا آغاز کرنا میرین لی پین کی جانب سے اپنے حامیوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ وہ قانونی رکاوٹوں سے مرعوب نہیں ہوں گی۔ لی پین، جو فرانسیسی سیاست میں ایک متنازعہ مگر مضبوط شخصیت سمجھی جاتی ہیں، ماضی میں بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکی ہیں اور قوم پرست نظریات کی علمبردار ہیں۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے پر قائم ہیں اور آئندہ انتخابات میں ایک بار پھر اپنی قسمت آزمائیں گی۔
اس عدالتی فیصلے اور اس کے بعد لی پین کے فوری ردعمل نے فرانسیسی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانونی رکاوٹ ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی یا پھر یہ ان کے لیے ایک نیا سیاسی ابھار ثابت ہو گا؟ آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی کارکردگی ہی اس سوال کا جواب دے گی کہ کیا میرین لی پین واقعی دوبارہ عروج حاصل کر پائیں گی۔




