خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ایک اہم ترمیمی ایکٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد قانون ساز ادارے کے تقدس اور اس کے اراکین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت، اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مختلف نوعیت کی کارروائی کی جا سکے گی، جس میں جرمانے اور دیگر تعزیری اقدامات شامل ہیں۔
اس ایکٹ کی منظوری پارلیمانی نظام میں اسمبلی کے اختیارات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ترمیمی ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد یا ادارہ جو اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالے گا، اس کے اراکین کی توہین کرے گا، یا ان کے قانونی فرائض کی انجام دہی میں مخل ہوگا، اسے اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں، اسمبلی کو ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور مناسب سزائیں دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف خیبر پختونخوا اسمبلی کے وقار کو بلند کرے گا بلکہ اسے اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں مزید خود مختاری بھی فراہم کرے گا۔ اس سے قبل استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملات میں کارروائی کے لیے واضح قانونی ڈھانچے کا فقدان تھا، جس کی وجہ سے بعض اوقات اسمبلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئے ایکٹ کی منظوری سے اب ایسے معاملات میں تیزی اور مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے گا، اور پارلیمانی تقدس کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔




