کراچی: گل پلازا میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں آگ لگنے کی وجہ کو حادثاتی قرار دیا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ رپورٹ میں گل پلازا انتظامیہ کے صدر تنویر پاستا اور ایک 11 سالہ بچے سمیت متعدد افراد کو غفلت اور حفاظتی انتظامات میں کوتاہی برتنے پر نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ آگ حادثاتی طور پر لگی، لیکن اس کے پھیلاؤ اور جانی نقصان کی بڑی وجہ عمارت میں حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی بندش تھی۔ رپورٹ کے مطابق، تنویر پاستا کو عمارت کی انتظامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے حفاظتی معیارات پر عمل درآمد نہ کرانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ حیران کن طور پر، رپورٹ میں ایک 11 سالہ بچے کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ابتدائی معلومات کے مطابق، اس کی جانب سے کسی آتش گیر مواد سے غیر ارادی طور پر آگ بھڑک اٹھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس کے والدین یا سرپرستوں کی غفلت کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔
اس سانحے نے شہر میں عمارتوں کی حفاظت اور فائر سیفٹی کے معیارات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا، جس میں غفلت برتنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ متاثرین کے لواحقین نے رپورٹ کے نتائج پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے، کچھ نے اسے انصاف کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے مزید سخت اقدامات اور ذمہ داروں کے خلاف مثالی سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ سانحہ کراچی کی تاریخ کے بدترین آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے جس نے شہری انتظامیہ کو حفاظتی پروٹوکولز پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔





