سرگودھا میں 7 سالہ بچی منتہا زہرہ کے زیادتی کے بعد قتل کے دلخراش واقعے پر لواحقین نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری اور کیس کی پیش رفت میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جس کے باعث انہیں انصاف ملنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا تھا جب منتہا زہرہ گھر سے لاپتہ ہوئی اور بعد ازاں اس کی لاش ایک ویران جگہ سے برآمد ہوئی، جس پر زیادتی کے واضح نشانات تھے۔
مقتولہ کے اہلِ خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو بروقت اطلاع دی تھی، لیکن ابتدائی طور پر کارروائی میں تاخیر کی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس نے کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ منتہا کے والد نے روتے ہوئے کہا کہ ان کی بچی کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور وہ انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، لیکن کوئی ان کی فریاد سننے کو تیار نہیں۔ لواحقین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں۔
اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہریوں نے بھی پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں اور منتہا زہرہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔ لواحقین نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں جلد انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔






