سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن 2030 ایک ایسا منصوبہ تھا جو بظاہر سائنس فکشن کا حصہ معلوم ہوتا تھا۔ اس میں ایسے میگا پروجیکٹس شامل تھے جو ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانے اور اسے ایک جدید عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کا خواب دکھاتے تھے۔ یہ منصوبے، جن میں نیوم شہر جیسے مستقبل کے شہروں کی تعمیر بھی شامل تھی، دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے اور انہیں سعودی عرب کی بے پناہ مالی طاقت کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔
تاہم، اب ایسا لگتا ہے کہ حقیقت نے اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کی یہ بے تحاشا سرمایہ کاری اور شاہ خرچی کا دور اب اپنے اختتام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ابتدائی جوش و خروش اور لامحدود وسائل کے تاثر کے برعکس، ان مہتواکانکشی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مالیاتی اور عملی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی منصوبوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور کچھ کو تو دوبارہ جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
اس صورتحال نے عالمی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا سعودی عرب اپنی تمام تر مالی طاقت کے باوجود، ان تمام منصوبوں کو بیک وقت پایہ تکمیل تک پہنچا پائے گا یا نہیں۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی اقتصادی صورتحال نے بھی ان منصوبوں کی پائیداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اب سعودی قیادت کو ایک زیادہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنانا پڑ رہا ہے تاکہ وژن 2030 کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکے، لیکن اس کے لیے شاید کچھ منصوبوں کی ترجیحات اور حجم میں تبدیلی لانا ضروری ہو گا۔




