مراکش کی حکومت مغربی صحارا کے متنازعہ علاقے میں مغربی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مراکش اس علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کی یہ کوشش دراصل مراکش کی جانب سے مغربی صحارا پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا ایک حربہ ہے۔
مراکشی حکام کا مؤقف ہے کہ مغربی صحارا میں سیاحت کو فروغ دینا علاقے کی اقتصادی ترقی اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی، صحرائی مناظر اور ساحلی پٹی کی وجہ سے سیاحوں کے لیے پرکشش ہے۔ مراکش اس علاقے کو اپنے جنوبی صوبوں کا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے اپنی قومی سالمیت کا لازمی جزو سمجھتا ہے۔
تاہم، اس اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحراوی آزادی کی تحریک، پولساریو فرنٹ، کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ پولساریو فرنٹ مغربی صحارا کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور مراکش کے اس علاقے پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاحت کو فروغ دے کر مراکش دراصل اس علاقے کی متنازعہ حیثیت کو کمزور کرنے اور بین الاقوامی برادری میں اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ خود ارادیت کے حق کے ذریعے کرنے کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔




