امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو ہیٹی اور شام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تارکین وطن کی عارضی محفوظ حیثیت (TPS) کو ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد، یہ تارکین وطن، جو کئی سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں، اب ملک بدری کے خطرے کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان لاکھوں افراد کی قسمت پر اثر انداز ہوگا جو دہائیوں سے امریکہ میں رہ رہے ہیں اور یہاں اپنے خاندانوں کی پرورش کر رہے ہیں۔
عارضی محفوظ حیثیت (TPS) ایک ایسا پروگرام ہے جو قدرتی آفات، مسلح تنازعات یا دیگر غیر معمولی حالات سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں عارضی طور پر رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دلیل دی تھی کہ ان ممالک میں حالات اب اتنے خراب نہیں رہے کہ انہیں TPS کی ضرورت ہو، اور اس بنیاد پر اس حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف نچلی عدالتوں میں کئی قانونی چیلنجز دائر کیے گئے تھے، لیکن سپریم کورٹ نے بالآخر انتظامیہ کے حق میں فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے، حالانکہ اس عمل میں مزید قانونی چیلنجز اور انتظامی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکین وطن کے حامی گروہوں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں افراد کی زندگیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دے گا اور انہیں ایسے حالات میں واپس جانے پر مجبور کرے گا جہاں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی امیگریشن پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا اور تارکین وطن کمیونٹیز میں خوف و ہراس پیدا کرے گا۔




